تہران،3؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)ایران کے سرکاری شعبے سے وابستہ بعض سینئر افسران کی بھاری بھرکم تنخواہوں اور غیرمعمولی مراعات کے سامنے آنے والے اسکینڈل میں ایک بار پھر شدت دیکھی جا رہی ہے۔ ایران نے قدامت پسند حلقوں کی طرف سیاٹھائے گئے تنخواہوں کے معاملے پر اب ریاست بھی سرگرم عمل دکھائی دیتی ہے اور لگتا ہے کہ بھاری تنخواہیں اور مالی مراعات وصول کرنے والے سیکڑوں افسران کو کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑے گا۔ ایران میں بھاری تنخواہیں وصول کرنے والے 400اہلکاروں کو عدالت میں پیش کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان میں بعض بنکوں کے ایگزیکٹو حضرات جن کی تنخواہیں 22ملین اور 600ایرانی ریال یعنی ماہانہ 20ہزار امریکی ڈالر کے مساوی ہیں جب کہ عام ایرانی سرکاری ملازم کی تنخواہ چار سو ڈالر سے زیادہ نہیں ہے۔
حال ہی میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر علی لاریجانی نے بھاری تنخواہیں وصول کرنے کو سرکاری شعبے کے ماتھے پر بدنما داغ قرار دیا تھا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وہ ان چار سو ایسے افسران کے خلاف عدالتی کارروائی کریں گے جو بھاری تنخواہیں لے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 2ملین ریال سے زیادہ تنخواہ لینے والے سرکاری عمال کا محاسبہ ہوگا۔علی لاریجانی نے کہا کہ وہ غیرمعمولی تنخواہیں لینے والے افسران کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 50ارب ریال کی رقم قومی خزانے میں جمع کروائیں گے۔خیال رہے کہ رواں سال مئی میں ایران میں ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا تھا کہ بعض سرکاری ملازمین جن میں بنکوں کے ڈائریکٹرز شامل ہیں ماہانہ 60ہزار ڈالر تنخواہ لے رہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران میں اصلاح پسندوں کی طرف سے تنخواہ اسکینڈل سامنے لانے کا مقصد صدارتی انتخابات پر اثر انداز ہونا ہے کیونکہ یہ اسکینڈل صدارتی انتخابات سے چند ماہ قبل سامنے آیا ہے۔